مرکزی مواد پر جائیں
VegEco
سمندری تحفظ

سمندری تحفظ: 8 افسانے جو آپ کو ماہی گیری کے بارے میں غلط معلومات دیتے ہیں

سمندری تحفظ کے بارے میں عام غلط فہمیوں کو حقیقت سے بدلیں: پائیدار ماہی گیری، بائی کیچ، اور مرجان کی حفاظت کے بارے میں سائنس کیا کہتی ہے۔

بقلم عائشہ خان7 منٹ مطالعہکراچی، PK
سمندری تحفظ: مرجان کی چٹانیں اور ماہی گیری کے جال کا منظر، بائی کیچ کے اثرات کی علامت
VegEco / AI-generated

**مختصر جواب:** سمندری تحفظ کے بارے میں بہت سے عام افسانے غلط معلومات پر مبنی ہیں۔ مثال کے طور پر، 'پائیدار ماہی گیری' کا مطلب یہ نہیں کہ مچھلیوں کو تکلیف نہیں ہوتی، اور 'بائی کیچ' صرف ڈالفن تک محدود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صنعتی ماہی گیری ہر سال لاکھوں سمندری جانوروں کو ہلاک کرتی ہے، اور مرجان کی چٹانیں موسمیاتی تبدیلی سے تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں۔

افسانہ 1: پائیدار ماہی گیری کا مطلب ہے کہ مچھلیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ 'پائیدار' کا لیبل لگا ہوا سمندری غذا ماحول دوست اور جانوروں کے لیے بے ضرر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پائیدار ماہی گیری کا تصور صرف مچھلیوں کی آبادی کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے، نہ کہ انفرادی مچھلی کی فلاح و بہبود پر۔

میرین اسٹیورڈشپ کونسل (MSC) جیسے سرٹیفیکیشن پروگرام مچھلیوں کی تعداد پر توجہ دیتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مچھلیاں کیسے پکڑی جاتی ہیں یا انہیں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ ماہی گیری کے جالوں میں پھنسی مچھلیاں گھنٹوں دم گھٹتی ہیں، اور ان کی اذیت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

کیا پائیدار ماہی گیری جانوروں کے حقوق کا احترام کرتی ہے؟

نہیں۔ پائیدار ماہی گیری کا مقصد ماحولیاتی استحکام ہے، نہ کہ جانوروں کی فلاح۔ مچھلیوں کو اب بھی بڑی تعداد میں پکڑا جاتا ہے، اور انہیں زندہ رہتے ہوئے کاٹا جاتا ہے۔ یہ ایک اخلاقی مسئلہ ہے جس پر زیادہ بحث نہیں ہوتی۔

افسانہ 2: بائی کیچ صرف ڈالفن اور کچھوؤں کو متاثر کرتا ہے

بائی کیچ سے مراد وہ سمندری جانور ہیں جو ماہی گیری کے جالوں میں غیر ارادی طور پر پکڑے جاتے ہیں۔ یہ صرف ڈالفن یا کچھوے نہیں، بلکہ ہزاروں اقسام کی مچھلیاں، پرندے، اور یہاں تک کہ وہیل بھی شامل ہیں۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے مطابق، عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 7 ملین ٹن مچھلیاں بائی کیچ کے طور پر پھینک دی جاتی ہیں (FAO، 2024)۔ اس میں لاکھوں شارک، سمندری پرندے اور چھوٹے ممالیہ جانور شامل ہیں۔

بائی کیچ کے اثرات کو کم کرنے کے طریقے

بائی کیچ کم کرنے کے اہم اقدامات

  • چھوٹے جالوں کا استعمال جو مچھلیوں کو پھنسنے سے بچائیں
  • سمندری محفوظ علاقوں میں ماہی گیری پر پابندی
  • جدید آلات جیسے کہ 'TED' (ٹرٹل ایکسکلوڈر ڈیوائس) کا استعمال
  • موسمی پابندیاں جب مخصوص انواع افزائش نسل کر رہی ہوں

افسانہ 3: مرجان کی چٹانیں صرف ماہی گیری سے تباہ ہوتی ہیں

ماہی گیری مرجان کی چٹانوں کو نقصان پہنچاتی ہے، لیکن سب سے بڑا خطرہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت مرجان کی بلیچنگ کا سبب بنتا ہے، جس سے وہ سفید ہو کر مر جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی تقریباً 50 فیصد مرجان کی چٹانیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں، اور اگر درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ گیا تو 90 فیصد تک تباہ ہو سکتی ہیں۔

مرجان کی چٹانوں کی تباہی کا رجحان (فیصد)

مرجان کی حفاظت کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

مرجان کی حفاظت کے لیے سب سے اہم قدم کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، سمندری محفوظ علاقوں کا قیام اور ماہی گیری کی مناسب پابندیاں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

افسانہ 4: سمندری محفوظ علاقے مچھلیوں کی حفاظت کے لیے کافی ہیں

سمندری محفوظ علاقے (MPAs) اہم ہیں، لیکن یہ کافی نہیں ہیں۔ بہت سے محفوظ علاقے صرف کاغذ پر موجود ہیں اور وہاں ماہی گیری جاری ہے۔ اس کے علاوہ، یہ علاقے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مچھلیوں کو نہیں بچا سکتے۔

بین الاقوامی یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے مطابق، دنیا کے صرف 8 فیصد سمندری علاقے محفوظ ہیں، اور ان میں سے بھی بہت سے علاقوں میں نگرانی ناکافی ہے (IUCN، 2024)۔

علاقہملکرقبہ (مربع کلومیٹر)نگرانی کی سطح
پاپاہانوموکواکیاامریکہ1,500,000اعلی
میرین پارک آف کورل سینیو کیلیڈونیا1,300,000اعلی
ساؤتھ جارجیابرطانیہ1,070,000اعلی
گریٹ بیریئر ریفآسٹریلیا344,000اعلی
گالاپاگوسایکواڈور138,000اعلی
دنیا کے بڑے سمندری محفوظ علاقے (2024)

افسانہ 5: پلانٹ بیسڈ سمندری غذا مچھلیوں کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

پلانٹ بیسڈ سمندری غذا، جیسے کہ سمندری سوار یا پودوں سے بنی مچھلی، یقینی طور پر جانوروں کو بچاتی ہے، لیکن یہ واحد حل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سمندری سوار کی کاشت بھی ماحولیاتی اثرات رکھتی ہے، جیسے کہ مقامی ماحولیاتی نظام میں تبدیلی۔

پھر بھی، گڈ فوڈ انسٹیٹیوٹ (GFI) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، پلانٹ بیسڈ سمندری غذا کا شعبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور یہ روایتی ماہی گیری کے مقابلے میں کہیں کم نقصان دہ ہے۔

کیا پلانٹ بیسڈ سمندری غذا حقیقی مچھلی کا ذائقہ دیتی ہے؟

بہت سی کمپنیاں، جیسے کہ گڈ مائیٹ (Good Catch) اور نیو ویو فوڈز، پودوں سے مچھلی کے ذائقے اور ساخت کو نقل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ یہ مصنوعات نہ صرف ذائقے میں قریب ہیں بلکہ غذائیت سے بھی بھرپور ہیں۔

افسانہ 6: ماہی گیری کے ضوابط موثر ہیں اور ان پر عمل کیا جاتا ہے

بدقسمتی سے، دنیا بھر میں ماہی گیری کے ضوابط پر عمل درآمد بہت کمزور ہے۔ غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم ماہی گیری (IUU) ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے مچھلیوں کی آبادی خطرے میں ہے۔

یورپی یونین کے فارم ٹو فورک حکمت عملی کے تحت، 2030 تک ماہی گیری کو مزید پائیدار بنانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، لیکن ابھی تک بہت سے ممالک میں نگرانی ناکافی ہے (یورپی کمیشن، 2024)۔

افسانہ 7: سمندری غذا صحت کے لیے ضروری ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈ صرف مچھلی سے ملتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پودوں میں بھی اومیگا 3 پایا جاتا ہے، جیسے کہ السی کے بیج اور اخروٹ میں۔

امریکن ڈائیٹک ایسوسی ایشن (ADA) کے مطابق، ایک متوازن پلانٹ بیسڈ غذا تمام ضروری غذائی اجزاء فراہم کر سکتی ہے، بشمول اومیگا 3، بغیر کسی جانور کی تکلیف کے۔

افسانہ 8: مچھلیاں درد محسوس نہیں کرتیں، اس لیے انہیں کھانا اخلاقی ہے

یہ ایک پرانا افسانہ ہے جو سائنس کے مطابق غلط ہے۔ متعدد مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ مچھلیوں میں درد کے رسیپٹر ہوتے ہیں اور وہ درد کا جواب دیتی ہیں۔

امریکن ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن (AVMA) نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مچھلیاں شعور رکھتی ہیں اور انہیں ہمدردی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔

مچھلیاں صرف بے حس مخلوق نہیں ہیں؛ وہ پیچیدہ سماجی رویے رکھتی ہیں اور درد محسوس کرتی ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھ اخلاقی طور پر پیش آنا چاہیے۔

ڈاکٹر سلمیٰ رضوی، میرین بایولوجسٹ، یونیورسٹی آف کراچی

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)

کیا پائیدار ماہی گیری مچھلیوں کے لیے بے ضرر ہے؟

نہیں۔ پائیدار ماہی گیری کا مقصد مچھلیوں کی آبادی کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ انفرادی مچھلی کی فلاح۔ مچھلیاں اب بھی پکڑی جاتی ہیں، زخمی ہوتی ہیں اور اکثر دردناک موت مرتی ہیں۔

بائی کیچ کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

بائی کیچ سے مراد وہ سمندری جانور ہیں جو غیر ارادی طور پر ماہی گیری کے جالوں میں پکڑے جاتے ہیں۔ یہ اہم ہے کیونکہ ہر سال لاکھوں جانور اس طرح ہلاک ہوتے ہیں، جن میں خطرے سے دوچار انواع بھی شامل ہیں۔

مرجان کی چٹانیں کیوں مر رہی ہیں؟

مرجان کی چٹانیں بنیادی طور پر موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مر رہی ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت بلیچنگ کا سبب بنتا ہے، جس سے مرجان اپنے ٹشوز میں موجود طحالب کھو دیتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔

کیا پلانٹ بیسڈ سمندری غذا اصلی مچھلی جیسی غذائیت دیتی ہے؟

جی ہاں، جدید پلانٹ بیسڈ سمندری غذا میں اکثر اومیگا 3 اور وٹامن بی 12 شامل کیے جاتے ہیں، جو مچھلی میں پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ غذائیت کے لحاظ سے موازنہ ہے۔

کیا سمندری محفوظ علاقے موثر ہیں؟

سمندری محفوظ علاقے موثر ہو سکتے ہیں اگر ان پر مناسب نگرانی اور عمل درآمد ہو۔ لیکن بہت سے علاقے صرف کاغذ پر ہیں، اور ماہی گیری جاری ہے، اس لیے حقیقی تحفظ کے لیے سخت قوانین ضروری ہیں۔

اہم نکات (Key Takeaways)

سمندری تحفظ کے لیے اہم اقدامات

  • مچھلی کی بجائے پلانٹ بیسڈ سمندری غذا کا انتخاب کریں
  • پائیدار سرٹیفیکیشن کے دعووں کی تصدیق کریں
  • موسمیاتی تبدیلی کے خلاف آواز اٹھائیں
  • سمندری محفوظ علاقوں کی حمایت کریں
  • بائی کیچ کے اثرات کے بارے میں آگاہی پھیلائیں

متعلقہ مطالعہ