Skip to main content
VegEco
سمندری تحفظ

مچھلیوں کی پوشیدہ زندگیاں: صنعتی ماہی گیری، بائی کیچ اور سمندری تحفظ

یہ مضمون صنعتی ماہی گیری کے سمندری ماحول، بائی کیچ اور مچھلیوں کی ادراکی صلاحیتوں پر گہرائی سے روشنی ڈالتا ہے اور پائیدار متبادل پیش کرتا ہے۔

بقلم عائشہ خان7 منٹ مطالعہکراچی، پاکستان
صنعتی ماہی گیری کا جہاز جال میں پھنسی ہوئی مچھلیوں اور کچھوؤں کے ساتھ — بائی کیچ کا منظر
VegEco / AI-generated

مختصر جواب: صنعتی ماہی گیری (Industrial Fishing) سمندری ماحول کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، جو نہ صرف مچھلیوں کی انواع کو ختم کرتی ہے بلکہ بائی کیچ (Bycatch) کے ذریعے لاکھوں غیر ہدف مخلوقات کو بھی ہلاک کرتی ہے۔ 2024 کے ایک مطالعے کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 40 ملین ٹن بائی کیچ سمندروں سے نکالا جاتا ہے (FAO, 2024)۔ مچھلیاں درد محسوس کرتی ہیں، یادداشت رکھتی ہیں اور سماجی تعلقات بناتی ہیں، اس لیے ان کا تحفظ اخلاقی طور پر ضروری ہے۔

مچھلیاں کون ہیں؟ — حیاتیاتی اور ادراکی حقیقت

مچھلیاں (Fish) فقاری جانور ہیں جو پانی میں رہتی ہیں اور ان کی 34,000 سے زائد انواع پائی جاتی ہیں۔ وہ صرف خوراک کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ اعصابی نظام رکھتی ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مچھلیاں درد کو محسوس کرتی ہیں، کیونکہ ان کے جسم میں نوسیسیپٹرز (Nociceptors) ہوتے ہیں جو نقصان دہ محرکات پر ردعمل دیتے ہیں (Sneddon, 2023)۔

مچھلیوں کی یادداشت بھی غیر معمولی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، سالمن (Salmon) اپنے پیدا ہونے والے دریا تک واپس آنے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہیں، جس سے ان کی مقامی یادداشت اور سمتی حس کا پتہ چلتا ہے۔ یہی نہیں، مچھلیاں ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں، شکاریوں سے بچنے کے لیے اجتماعی حکمت عملی اپناتی ہیں، اور حتیٰ کہ اوزار بھی استعمال کرتی ہیں — جیسے کہ ریف مچھلیاں سیپوں کو توڑنے کے لیے پتھر استعمال کرتی ہیں (Bshary, 2022)۔

مچھلیوں کی ادراکی صلاحیتیں: ایک جدول

صلاحیتمثالماخذ
درد کا احساسنقصان دہ محرکات پر ردعملSneddon, 2023
یادداشتسالمن کا دریا واپسی کا سفرNOAA, 2022
سماجی تعلقاتایک دوسرے کو پہچاننا اور تعاونBshary, 2022
اوزار کا استعمالپتھر سے سیپ توڑناBrown, 2021
ساختہ سیکھناماحول سے سیکھ کر رویہ تبدیل کرناIUCN, 2024
مچھلیوں کی ادراکی صلاحیتوں کے بارے میں اہم حقائق

جنگل میں مچھلیوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟

جنگلی مچھلیاں سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں میں آزادانہ طور پر رہتی ہیں، جہاں وہ اپنے قدرتی ماحول میں خوراک تلاش کرتی ہیں، شکاریوں سے بچتی ہیں اور تولید کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ٹونا (Tuna) مچھلیاں ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتی ہیں، اور وہ تیز رفتاری سے تیرتی ہیں، جس سے ان کے طرزِ زندگی کی پیچیدگی ظاہر ہوتی ہے (WWF, 2023)۔

مچھلیاں سماجی جانور ہیں؛ وہ ریوڑ بنا کر رہتی ہیں، جسے 'سکول' کہتے ہیں۔ اس سے انہیں شکاریوں سے تحفظ ملتا ہے اور خوراک تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کچھ انواع، جیسے کہ کلیون فش (Clownfish)، سمندری انیمون کے ساتھ باہمی فائدے کا رشتہ رکھتی ہیں۔ یہ پیچیدہ سماجی ڈھانچے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مچھلیاں محض بے حس مخلوق نہیں ہیں۔

صنعتی ماہی گیری مچھلیوں کے ساتھ کیا کرتی ہے؟

صنعتی ماہی گیری میں بڑے جہاز جال یا ٹرالر استعمال کرتے ہیں جو سمندر کی تہہ تک پہنچ کر سب کچھ اٹھا لیتے ہیں۔ اس طریقے میں مچھلیوں کو زندہ پکڑا جاتا ہے، پھر انہیں ڈیک پر پھینکا جاتا ہے، جہاں وہ آکسیجن کی کمی یا دباؤ کی وجہ سے دم توڑ دیتی ہیں۔ یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہے، اور مچھلیوں کو مرنے میں کئی منٹ لگ سکتے ہیں۔

بائی کیچ (Bycatch) اس کا سب سے تباہ کن پہلو ہے۔ جب ماہی گیر ٹونا یا جھینگا پکڑتے ہیں، تو ان کے جال میں ڈالفن، کچھوے، شارک اور لاکھوں دیگر مخلوقات بھی پھنس جاتی ہیں، جنہیں زیادہ تر مرنے کے بعد واپس سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 40 ملین ٹن بائی کیچ ہوتا ہے، جو کل پکڑی جانے والی مچھلیوں کا 40 فیصد بنتا ہے (FAO, 2024)۔

مچھلیاں صرف خوراک نہیں ہیں؛ وہ احساس رکھنے والی مخلوقات ہیں جنہیں صنعتی ماہی گیری میں انتہائی تکلیف دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سارہ احمد، سمندری حیاتیات کی ماہر، کراچی یونیورسٹی

بائی کیچ کے اعداد و شمار

بائی کیچ میں اضافہ (ملین ٹن)

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بائی کیچ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہے۔ 2024 میں، عالمی سطح پر 41 ملین ٹن بائی کیچ ریکارڈ کیا گیا، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ ہے (FAO, 2024)۔

مچھلیوں کے لیے قانونی تحفظ کیا ہے؟

مچھلیوں کے لیے قانونی تحفظ بہت محدود ہے۔ زیادہ تر ممالک میں، مچھلیوں کو جانوروں کے حقوق کے قوانین میں شامل نہیں کیا جاتا، بلکہ انہیں 'زرعی مصنوعات' سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین میں، 2009 کے ضابطے کے تحت مچھلیوں کو ذبح کے وقت بے ہوش کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کمزور ہے (EU Regulation 1099/2009)۔

پاکستان میں، سمندری ماہی گیری کے قوانین (پاکستان فشریز ایکٹ، 1975) بنیادی طور پر ماہی گیری کی پائیداری پر توجہ دیتے ہیں، نہ کہ مچھلیوں کی بہبود پر۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے 2022 میں میرین پروٹیکٹڈ ایریاز (MPAs) قائم کرنے کا اعلان کیا، لیکن ان کا نفاذ ابھی تک مکمل نہیں ہوا (WWF پاکستان، 2023)۔

سمندری تحفظ کے لیے بہتر انتخاب کیا ہیں؟

سمندری ماحول کی حفاظت کے لیے سب سے مؤثر قدم یہ ہے کہ ہم اپنی خوراک سے مچھلی کا استعمال کم کریں یا مکمل طور پر ختم کریں، اور پلانٹ بیسڈ سمندری غذا (Plant-Based Seafood) کا رخ کریں۔ یہ مصنوعات مچھلی کے ذائقے اور ساخت کی نقل کرتی ہیں، لیکن ان میں کوئی جانور شامل نہیں ہوتا، اور یہ سمندری ماحول کے لیے بے ضرر ہیں۔

مچھلیوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات

  • پلانٹ بیسڈ سمندری غذا کی مصنوعات آزمائیں، جیسے کہ گارڈین فوڈز یا نیو ویو فوڈز
  • مچھلی کی کھپت کو کم کریں اور ہفتے میں کم از کم ایک دن مچھلی کے بغیر گزاریں
  • ماحولیاتی لیبلز کی تصدیق کریں، جیسے کہ MSC سرٹیفیکیشن، لیکن یاد رکھیں کہ یہ بھی مچھلیوں کے استحصال کو نہیں روکتا
  • سمندری تحفظ کی تنظیموں کی حمایت کریں، جیسے کہ WWF اور Oceana
  • لوگوں کو بائی کیچ کے مسئلے سے آگاہ کریں اور سماجی میڈیا پر مہم چلائیں

پاکستان میں سمندری تحفظ کے چیلنجز

پاکستان کا سمندری ساحل تقریباً 1,050 کلومیٹر طویل ہے، جو کہ بحیرہ عرب کے ساتھ ہے۔ یہاں ماہی گیری کی صنعت لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے، لیکن غیر قانونی ماہی گیری اور بائی کیچ کے باعث سمندری حیات کو شدید خطرہ ہے۔ پاکستان میں 2023 میں، تقریباً 80,000 ٹن بائی کیچ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ ملکی ماہی گیری کا ایک بڑا حصہ ہے (پاکستان فشریز ڈیپارٹمنٹ، 2023)۔

مرجان کی چٹانیں اور ماحولیاتی نظام

مرجان کی چٹانیں سمندری ماحول کے سب سے اہم اجزاء ہیں، کیونکہ یہ ہزاروں انواع کے لیے مسکن فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، ماہی گیری کے جال انہیں تباہ کر دیتے ہیں، اور عالمی حدت کے باعث مرجان بلیچنگ (Coral Bleaching) میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2024 میں، عالمی سطح پر 50 فیصد مرجان کی چٹانیں بلیچنگ کا شکار ہوئیں (NOAA, 2024)۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا مچھلیاں درد محسوس کرتی ہیں؟

ہاں، مچھلیاں درد محسوس کرتی ہیں۔ ان کے جسم میں نوسیسیپٹرز اور درد کے لیے مخصوص اعصابی ریشے موجود ہوتے ہیں، جو نقصان دہ محرکات پر ردعمل دیتے ہیں (Sneddon, 2023)۔

بائی کیچ کیا ہے؟

بائی کیچ وہ مچھلیاں اور دیگر سمندری مخلوقات ہیں جو ماہی گیری کے جال میں غیر ارادی طور پر پھنس جاتی ہیں، جیسے کہ ڈالفن، کچھوے اور شارک۔ یہ زیادہ تر مر جاتی ہیں اور پھر سمندر میں پھینک دی جاتی ہیں (FAO, 2024)۔

صنعتی ماہی گیری سے سمندری ماحول کو کیا نقصان ہے؟

صنعتی ماہی گیری سمندری ماحول کو کئی طریقوں سے نقصان پہنچاتی ہے: یہ مچھلیوں کی انواع کو ختم کرتی ہے، بائی کیچ کے ذریعے غیر ہدف مخلوقات کو ہلاک کرتی ہے، سمندری تہہ کو تباہ کرتی ہے، اور مرجان کی چٹانوں کو نقصان پہنچاتی ہے (WWF, 2023)۔

کیا پلانٹ بیسڈ سمندری غذا پائیدار ہے؟

جی ہاں، پلانٹ بیسڈ سمندری غذا پائیدار ہے، کیونکہ یہ مچھلیوں کے استحصال کو ختم کرتی ہے اور سمندری ماحول پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالتی۔ یہ مصنوعات پودوں کے پروٹین، جیسے کہ سویا اور مٹر سے بنتی ہیں، اور مچھلی کے ذائقے کی نقل کرتی ہیں (Good Food Institute, 2024)۔

پاکستان میں مچھلیوں کی حفاظت کے لیے کیا قوانین ہیں؟

پاکستان میں مچھلیوں کی حفاظت کے لیے کوئی جامع قانون موجود نہیں ہے۔ پاکستان فشریز ایکٹ (1975) صرف ماہی گیری کی پائیداری پر توجہ دیتا ہے، اور مچھلیوں کی بہبود کے لیے کوئی شق نہیں ہے (پاکستان فشریز ڈیپارٹمنٹ، 2023)۔

اہم نکات

  • مچھلیاں ادراک رکھتی ہیں اور درد محسوس کرتی ہیں
  • بائی کیچ ہر سال لاکھوں سمندری مخلوقات کو ہلاک کرتا ہے
  • پلانٹ بیسڈ سمندری غذا پائیدار اور اخلاقی ہے
  • قانونی تحفظ ناکافی ہے، لہذا انفرادی اقدامات ضروری ہیں
  • پاکستان میں سمندری تحفظ کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے

متعلقہ مطالعہ