جنوبی کوریا کی وباء: صنعتی زراعت کے عالمی نظام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی
یچون میں منہ اور کھُر کی بیماری کا حالیہ پھیلاؤ صرف ایک مقامی بحران نہیں، بلکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح عالمی سطح پر پھیلتی فیکٹری فارمنگ ہمارے غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جنوبی کوریا کے شمالی گیونگ سانگ صوبے کے ایک گائے فارم سے آنے والی خبر عالمی زرعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا گئی ہے۔ وہاں منہ اور کھُر کی بیماری (Foot-and-Mouth Disease - FMD) کے ایک نئے کیس کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد حکومت کو فوری طور پر الرٹ کی سطح کو 'شدید' کرنا پڑا اور متاثرہ فارم کے سینکڑوں جانوروں کو تلف کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔ پہلی نظر میں یہ ایک مقامی زرعی بحران لگتا ہے، ایک ایسی بدقسمت کہانی جو ہر چند سال بعد دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں دہرائی جاتی ہے۔ لیکن یچون کا یہ واقعہ محض ایک الگ تھلگ بحران نہیں ہے۔ یہ اس وسیع اور پیچیدہ نظام کی ایک اور دراڑ ہے جسے ہم صنعتی زراعت یا فیکٹری فارمنگ کہتے ہیں۔ یہ اس بات کی ایک واضح یاد دہانی ہے کہ سستے گوشت اور ڈیری مصنوعات کی ہماری نہ ختم ہونے والی طلب نے ایک ایسا نظام تشکیل دیا ہے جو نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ خطرناک حد تک غیر مستحکم بھی ہے۔
ایف ایم ڈی کوئی نئی بیماری نہیں۔ یہ صدیوں سے مویشیوں کو متاثر کرتی آئی ہے۔ لیکن جس رفتار اور پیمانے پر یہ اب پھیل سکتی ہے، وہ جدید دور کی دین ہے۔ یہ وائرس انتہائی متعدی ہے اور ہوا، آلودہ چارے، گاڑیوں اور یہاں تک کہ انسانوں کے کپڑوں کے ذریعے میلوں تک سفر کر سکتا ہے۔ جب یہ بیماری گنجان آباد فیکٹری فارم میں داخل ہوتی ہے، جہاں ہزاروں جانور ایک دوسرے سے چند انچ کے فاصلے پر بندھے ہوتے ہیں، تو اس کا پھیلاؤ آگ کی طرح ہوتا ہے۔ یہ فارمز، جو بظاہر پیداوار اور کارکردگی کے شاہکار نظر آتے ہیں، درحقیقت وائرس اور بیکٹیریا کے لیے بہترین افزائش گاہیں ہیں۔ کم جینیاتی تنوع، مسلسل تناؤ اور غیر قدرتی ماحول جانوروں کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے وہ بیماریوں کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔
I. جدید وباء کی تشریح: ایک عالمی خطرہ
صنعتی زراعت کا ماڈل کارکردگی پر مبنی ہے۔ کم سے کم جگہ، کم سے کم وقت اور کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا اس کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جانوروں کو محض پیداواری اکائیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس کارکردگی کی ایک پوشیدہ قیمت ہے: حیاتیاتی خطرات میں بے پناہ اضافہ۔ جنوبی کوریا، جو دنیا میں گوشت کے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے، اس مسئلے سے بخوبی واقف ہے۔ 2010-2011 میں ملک کو ایف ایم ڈی کی تاریخ کی بدترین وباؤں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں تقریباً 35 لاکھ جانوروں کو تلف کرنا پڑا اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔
تازہ ترین کیس اس بات کی علامت ہے کہ سخت ترین بائیو سیکیورٹی اقدامات کے باوجود، یہ نظام خطرے سے خالی نہیں۔ ایک چھوٹی سی غلطی، ایک آلودہ ٹرک کا ٹائر یا ہوا کا ایک جھونکا پورے ملک کی لائیو اسٹاک صنعت کو مفلوج کر سکتا ہے۔ مسئلہ صرف جنوبی کوریا تک محدود نہیں۔ عالمی سپلائی چین کی بدولت، ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران تیزی سے دوسرے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ جب کسی بڑے گوشت برآمد کرنے والے ملک میں بیماری پھیلتی ہے تو عالمی منڈی میں رسد کم ہو جاتی ہے، قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور درآمدی ممالک میں غذائی تحفظ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح یچون کے ایک فارم کا مسئلہ کراچی یا دبئی کے ایک عام صارف کی جیب پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ بیماریاں صرف معاشی خطرہ نہیں بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی ممکنہ طور پر خطرناک ہیں۔ اگرچہ ایف ایم ڈی انسانوں کو متاثر نہیں کرتی، لیکن فیکٹری فارموں میں پیدا ہونے والی دیگر بیماریاں، جیسے ایویئن انفلوئنزا (برڈ فلو) کی کچھ اقسام، انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ صنعتی پولٹری فارمز، جہاں لاکھوں پرندے انتہائی تنگ جگہوں پر رکھے جاتے ہیں، ان 'زونوٹک' بیماریوں کے ارتقاء اور پھیلاؤ کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ہر نئی وباء اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے کہ کوئی ایسا وائرس پیدا ہو سکتا ہے جو نہ صرف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو بلکہ انسانوں کے درمیان بھی آسانی سے پھیل سکے، جس کے نتائج ایک عالمی وبا کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔
II. معاشی ڈومینو اثر
جب ایف ایم ڈی جیسی بیماری پھیلتی ہے تو اس کے معاشی اثرات زلزلے کی طرح ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا اور فوری اثر بین الاقوامی تجارت پر پڑتا ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت حیوانات (OIE) کے قوانین کے تحت، جیسے ہی کسی ملک میں ایف ایم ڈی کی تصدیق ہوتی ہے، دیگر ممالک فوری طور پر وہاں سے گوشت، ڈیری مصنوعات اور زندہ جانوروں کی درآمد پر پابندی عائد کر دیتے ہیں۔ جنوبی کوریا کے لیے، جو خود ایک بڑا درآمد کنندہ ہے، یہ براہ راست برآمدی نقصان شاید اتنا بڑا نہ ہو، لیکن اس کے اندرونی اثرات تباہ کن ہیں۔
سب سے بڑا خرچ بیماری پر قابو پانے کے اقدامات پر آتا ہے۔ اس میں وسیع پیمانے پر نگرانی، قرنطینہ زونز کا قیام، اور سب سے بڑھ کر، متاثرہ اور مشتبہ جانوروں کی بڑے پیمانے پر تلفی شامل ہے۔ یہ ایک سفاکانہ لیکن ضروری عمل سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں جانوروں کو مار کر دفن کیا جاتا ہے، جس کی لاگت حکومت اور بالآخر ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کو ان کے نقصان کا معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے۔ 2001 میں برطانیہ میں پھیلنے والی ایف ایم ڈی کی وباء اس کی ایک خوفناک مثال ہے، جس میں 60 لاکھ سے زیادہ جانور تلف کیے گئے اور برطانوی معیشت کو تقریباً 8 ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔
| ملک اور سال | تلف شدہ جانوروں کی تعداد (تقریباً) | کل تخمینی معاشی نقصان (امریکی ڈالر) | صنعت پر اثر |
|---|---|---|---|
| تائیوان، 1997 | 40 لاکھ (سور) | 15 ارب ڈالر | سور کے گوشت کی برآمدی صنعت مکمل طور پر تباہ ہو گئی |
| برطانیہ، 2001 | 60 لاکھ | 12-13 ارب ڈالر | زراعت اور سیاحت کو شدید نقصان |
| جنوبی کوریا، 2010-2011 | 35 لاکھ | 6.5 ارب ڈالر | ملکی گوشت کی قیمتوں میں شدید اضافہ |
| جاپان، 2010 | 3 لاکھ | 2.7 ارب ڈالر | ممتاز 'واگیو' بیف انڈسٹری کو خطرہ |
یہ اعداد و شمار صرف براہ راست نقصانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ بالواسطہ نقصانات، جیسے کہ سیاحت کی صنعت کو پہنچنے والا دھچکا، دیہی معیشتوں کی تباہی، اور صارفین کے اعتماد میں کمی، اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ جب کسی ملک کی گوشت کی صنعت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے، تو صارفین متبادل پروٹین ذرائع کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں طویل مدتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بیماری کے خوف سے مقامی منڈیوں میں گوشت کی قیمتیں گر سکتی ہیں، جبکہ سپلائی میں کمی کی وجہ سے شہری علاقوں میں قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ یہ عدم استحکام پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
III. بائیو سیکیورٹی کا تضاد
صنعتی زراعت کے حامی اکثر 'بائیو سیکیورٹی' کو اپنے دفاع میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جدید، بند فارمنگ سسٹم جانوروں کو بیرونی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ ان فارموں میں داخلے اور خارجی راستوں پر سخت کنٹرول ہوتا ہے، عملے کو جراثیم کش ادویات سے گزرنا پڑتا ہے، اور گاڑیوں کو بھی ڈس انفیکٹ کیا جاتا ہے۔ کاغذ پر یہ ایک ناقابل تسخیر قلعہ لگتا ہے۔ لیکن حقیقت میں، یہ بائیو سیکیورٹی ایک تضاد کا شکار ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جس چیز کو یہ نظام محفوظ رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے - یعنی ہزاروں جانوروں کا ایک جگہ پر ارتکاز - وہی چیز اسے سب سے زیادہ کمزور بناتی ہے۔ ایک روایتی، چھوٹے پیمانے کے فارم پر، جہاں جانور کھلی ہوا میں چرتے ہیں اور ایک دوسرے سے فاصلے پر رہتے ہیں، بیماری کا پھیلاؤ نسبتاً سست اور محدود ہوتا ہے۔ لیکن ایک صنعتی فارم میں، جہاں ہوا کی نکاسی کا نظام بھی مشترکہ ہوتا ہے، ایک بھی وائرس کا ذرّہ داخل ہو جائے تو وہ چند گھنٹوں میں ہزاروں جانوروں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس نظام میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
“ہم نے کارکردگی کے نام پر ایسے نظام بنائے ہیں جو انتہائی نازک ہیں۔ یہ ایک ایسے بلند و بالا ٹاور کی طرح ہے جو بہترین انجینئرنگ کا نمونہ تو ہے، لیکن اگر اس کی بنیاد میں ایک بھی چھوٹی سی دراڑ آ جائے تو پوری عمارت زمین بوس ہو سکتی ہے۔ ہر نئی وباء ہمیں اسی بنیادی کمزوری کی یاد دلاتی ہے۔”
اس تضاد کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ صنعتی نظام خود ان حالات کو پیدا کرتا ہے جو نئے اور زیادہ خطرناک پیتھوجینز کے ارتقاء کا باعث بنتے ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال، جو جانوروں کو بیماریوں سے بچانے اور ان کی نشوونما کو تیز کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، اینٹی بائیوٹک مزاحم 'سپر بگز' کے پیدا ہونے کا سب سے بڑا محرک ہے۔ یہ ایک ایسا ٹائم بم ہے جس کے پھٹنے کا انتظار پوری طبی دنیا کر رہی ہے۔ لہٰذا، بائیو سیکیورٹی کے تمام تر دعووں کے باوجود، فیکٹری فارمنگ کا ماڈل دراصل حیاتیاتی خطرات کو کم کرنے کے بجائے انہیں ایک جگہ جمع اور کئی گنا بڑھا رہا ہے۔
گزشتہ دہائیوں میں رپورٹ ہونے والی بڑی مویشی وباؤں کی تعداد
IV. جانوروں کی تلفی سے آگے: کیا بہتر حل موجود ہیں؟
جب بھی ایف ایم ڈی जैसी وباء پھوٹتی ہے، تو معیاری ردعمل ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے: متاثرہ علاقے کے تمام جانوروں کو تلف کر دو۔ یہ 'اسٹیمپنگ آؤٹ' پالیسی بیماری کو تیزی سے پھیلنے سے روکنے میں مؤثر ہو سکتی ہے، لیکن یہ ایک بے رحم، مہنگی اور اکثر غیر مؤثر حکمت عملی ہے۔ لاکھوں جانوروں کو زندہ جلانا یا دفنانا نہ صرف ایک اخلاقی المیہ ہے، بلکہ یہ ماحولیاتی مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ چھوٹے کسانوں کی روزی روٹی کو تباہ کر دیتا ہے اور دیہی برادریوں میں گہرے نفسیاتی زخم چھوڑ جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے؟ ایک ممکنہ حل ویکسینیشن ہے۔ ایف ایم ڈی کے خلاف مؤثر ویکسین موجود ہیں، اور بہت سے ممالک انہیں استعمال بھی کرتے ہیں۔ تاہم، عالمی تجارتی قوانین کی وجہ سے ویکسینیشن ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتی ہے۔ بہت سے درآمدی ممالک 'ویکسین فری' حیثیت کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ ویکسین شدہ جانوروں میں بیماری کی تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ممالک اپنے جانوروں کو ویکسین لگاتے ہیں، وہ اپنی برآمدی منڈیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو ممالک کو ویکسینیشن سے گریز کرنے اور اس کے بجائے تلفی کی پالیسی پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
تاہم، حقیقی اور طویل مدتی حل صرف ویکسینیشن یا بہتر بائیو سیکیورٹی میں نہیں، بلکہ خود زراعت کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے میں مضمر ہے۔ ہمیں صنعتی زراعت کے ماڈل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو بیماریوں کے لیے اس قدر سازگار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں چھوٹے اور درمیانے درجے کے فارمز کو سپورٹ کرنا ہوگا، جہاں جانور زیادہ قدرتی حالات میں رہتے ہیں۔ ہمیں جینیاتی تنوع کو فروغ دینا ہوگا تاکہ جانوروں کی نسلیں بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت پیدا کر سکیں۔ ہمیں مخلوط کاشتکاری (mixed farming) جیسے طریقوں کی طرف واپس جانا ہوگا، جہاں فصلیں اور مویشی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ ایک ہی جگہ پر ہزاروں جانوروں کا ڈھیر لگا دیا جائے۔
یہ تبدیلی آسان نہیں ہوگی۔ اس کے لیے حکومتی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں، صارفین کی سوچ میں انقلاب اور عالمی تجارتی قوانین پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سستے گوشت کی عادت ترک کرنا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی اصل قیمت کون اور کیسے ادا کر رہا ہے۔ یہ قیمت صرف جانور ہی نہیں، بلکہ کسان، ماحول اور خود ہمارا عالمی صحت کا نظام ادا کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا کا حالیہ بحران ایک اور انتباہ ہے۔ یہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم رک کر سوچیں کہ کیا ہم واقعی اسی راستے پر چلتے رہنا چاہتے ہیں جو بار بار ہمیں ایک ہی تباہی کی طرف لے جاتا ہے؟ یا ہم ایک زیادہ لچکدار، پائیدار اور انسانی زرعی مستقبل کی تعمیر کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر ہم نے اس بار بھی اس انتباہ کو نظر انداز کر دیا، تو اگلی وباء شاید صرف چند ہزار جانوروں تک محدود نہ رہے، بلکہ اس کے نتائج کہیں زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔