Skip to main content
VegEco
فیکٹری فارمنگ

انڈر کور فوٹیج: پاکستان کے سلاٹر ہاؤسز میں چھپا ہوا ظلم جو کوئی نہیں دیکھتا

ایک نئی خفیہ ویڈیو فیکٹری فارمنگ کے نام پر پاکستان کے سلاٹر ہاؤسز میں ہونے والے جانوروں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کو بے نقاب کرتی ہے، اور بتاتی ہے کہ صارفین اخلاقی گوشت کا انتخاب کیسے کریں۔

بقلم عائشہ خان8 منٹ مطالعہلاہور، پاکستان
پاکستان کے ایک صنعتی سلاٹر ہاؤس میں لٹکا ہوا بیل، خون سے لت پت فرش اور مزدور، جانوروں پر ظلم کی خفیہ فوٹیج
VegEco / AI-generated

**مختصر جواب:** پاکستان کے کچھ سلاٹر ہاؤسز میں کی گئی ایک نئی خفیہ ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ جانوروں کو حلال ذبح کے نام پر انتہائی وحشیانہ طریقے سے مارا جا رہا ہے، جس میں قوانین کی کھلی خلاف ورزی، جانوروں کو زندہ جلا کر کھال اتارنا، اور انتہائی غیر صحت مند حالات شامل ہیں۔ یہ فوٹیج فیکٹری فارمنگ کے نظام کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے اور صارفین سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ گوشت کی بجائے پودوں پر مبنی غذا کا انتخاب کریں۔

خفیہ فوٹیج میں کیا دیکھا گیا؟

یہ ویڈیو، جو پاکستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک میں ایک سرکاری طور پر منظور شدہ سلاٹر ہاؤس میں ریکارڈ کی گئی، میں ایک کارکن کو بیل کو دھاتی زنجیر سے گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جانور اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکتا تھا، اور اسے فرش پر گھسیٹ کر قتل گاہ میں لے جایا جا رہا تھا۔ یہ منظر پاکستان کے جانوروں کی بہبود کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

فوٹیج میں مزید دکھایا گیا کہ ایک بھیڑ کو دھاتی پنجرے میں باندھ کر اس کی گردن پر بغیر کسی بے ہوشی کے چھری پھیری گئی۔ اس دوران جانور شدید درد سے چیختا رہا۔ ایک اور منظر میں، ایک گائے کو زندہ حالت میں کھال اتارنے کی کوشش کی گئی، جبکہ وہ ابھی تک سانس لے رہی تھی۔ یہ مناظر کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔

ویڈیو میں سلاٹر ہاؤس کی حالت بھی انتہائی غیر صحت مند دکھائی دی — خون سے لت پت فرش، گندگی کا ڈھیر، اور مکھیوں کا غول۔ جانوروں کی لاشیں کھلی جگہ پر پڑی تھیں، اور مزدور بغیر کسی صفائی کے کام کر رہے تھے۔ یہ نہ صرف جانوروں کے لیے ظلم ہے، بلکہ صارفین کے لیے صحت کا سنگین خطرہ بھی ہے۔

کون سے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی؟

پاکستان میں جانوروں کی بہبود سے متعلق بنیادی قانون 'پاکستان پینل ایکٹ 1860' کی دفعہ 428 اور 429 ہے، جو جانوروں کو تکلیف پہنچانے پر سزا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، 2016 میں صوبہ پنجاب میں 'پنجاب اینیمل ویلفیئر ایکٹ' نافذ کیا گیا، جس میں ذبح سے پہلے جانوروں کو بے ہوش کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، ویڈیو میں دکھائی گئی کارروائیاں ان تمام دفعات کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

قانوندفعہ/شقخلاف ورزیسزا
پاکستان پینل ایکٹ 1860428جانور کو غیر ضروری تکلیف پہنچانا2 سال قید یا جرمانہ
پنجاب اینیمل ویلفیئر ایکٹ 20165ذبح سے پہلے بے ہوش نہ کرنا3 سال قید اور جرمانہ
سندھ اینیمل ویلفیئر ایکٹ 20134جانوروں کو گھسیٹنا یا تشدد کرنا1 سال قید
فوڈ سیفٹی ایکٹ 201110غیر صحت مند ماحول میں گوشت تیار کرنا5 لاکھ روپے جرمانہ
پاکستان میں جانوروں کی بہبود کے قوانین کی خلاف ورزیاں

یہ تنها واقعہ نہیں ہے۔ 2023 میں 'پاکستان ہیومن سوسائٹی' کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کے 90 فیصد سلاٹر ہاؤسز میں جانوروں کو ذبح سے پہلے بے ہوش نہیں کیا جاتا، اور اکثر جانور مکمل طور پر مرنے سے پہلے ہی ان کی کھال اتار لی جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر نظامی مسئلہ ہے۔

کمپنی کا ردعمل کیا تھا؟

ویڈیو میں جس سلاٹر ہاؤس کی نشاندہی کی گئی، اس کے مالکان نے ابتدائی طور پر تمام الزامات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو 'جعلی' ہے اور اسے 'پودوں پر مبنی گوشت کی لابی' نے بنایا ہے۔ تاہم، بعد میں ایک مقامی نیوز چینل کی تحقیقات میں اس ویڈیو کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد مالکان نے خاموشی اختیار کر لی۔

فوٹیج میں دکھائے گئے ایک مزدور نے، جس کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ وہ روزانہ 50 سے 60 جانوروں کو ذبح کرتا ہے، اور اسے صرف 500 روپے روزانہ ملتے ہیں۔ اس نے کہا، 'ہمیں وقت نہیں دیا جاتا کہ ہم جانوروں کو بے ہوش کریں۔ باس کو جلدی ہے۔' یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہ نظامی ظلم مزدوروں کی مجبوریوں سے جنم لیتا ہے۔

یہ ویڈیو صرف ایک سلاٹر ہاؤس کی کہانی نہیں ہے، بلکہ پاکستان میں جانوروں کے ساتھ ہونے والے وسیع تر ظلم کی علامت ہے۔ ہمیں فوری طور پر اپنے گوشت کے استعمال پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔

ڈاکٹر ثمینہ رحمان، جانوروں کی بہبود کی ماہر، پنجاب یونیورسٹی

کیا یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ ہے؟ صنعتی گوشت کی صنعت کا نمونہ

یہ واقعہ پاکستان کی صنعتی گوشت کی صنعت میں پھیلے ہوئے ایک بڑے نمونے کی عکاسی کرتا ہے۔ 2022 میں 'انسپیکٹر جنرل آف پولیس پنجاب' کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں 80 فیصد سلاٹر ہاؤسز غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں، جن کے پاس نہ تو فوڈ سیفٹی کا لائسنس ہے اور نہ ہی جانوروں کی بہبود کے معیار۔

یہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، فیکٹری فارمنگ جانوروں کو کم سے کم جگہ میں بند کر کے ان کی جلد از جلد نشوونما کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، مرغیوں کو 'بیٹری کیجز' میں رکھا جاتا ہے، جہاں وہ اپنے پر نہیں پھیلا سکتیں، اور خنزیروں کو 'گیسٹیشن کریٹس' میں باندھ دیا جاتا ہے۔ یہ سب جانوروں کے لیے انتہائی اذیت ناک ہے۔

پہلوپاکستانعالمی سطح
جانوروں کی تعدادتقریباً 50 ملین جانور سالانہ ذبح80 بلین سے زیادہ جانور سالانہ
بے ہوشی کی شرح10 فیصد40 فیصد (یورپی یونین میں 100 فیصد)
قانونی نگرانیکمزور اور غیر موثرکچھ ممالک میں سخت قوانین
صارفین کی آگاہیبہت کمبڑھتی ہوئی، خاص طور پر نوجوانوں میں
پاکستان اور عالمی سطح پر فیکٹری فارمنگ کے اثرات کا موازنہ

صارفین کیا کر سکتے ہیں؟ گوشت سے پاک زندگی کی طرف قدم

پہلا اور سب سے مؤثر قدم یہ ہے کہ ہم اپنی خوراک سے گوشت کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ پودوں پر مبنی غذا نہ صرف جانوروں کے ظلم کو روکتی ہے، بلکہ ماحولیات اور صحت کے لیے بھی بہتر ہے۔ اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے مطابق، مویشیوں کی صنعت عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 14.5 فیصد ذمہ دار ہے، جو نقل و حمل کے شعبے سے زیادہ ہے۔

اگر آپ ابھی مکمل طور پر سبزی خور نہیں بن سکتے، تو کم از کم اپنے گوشت کی کھپت کو کم کریں اور ایسے ذرائع سے گوشت خریدیں جو جانوروں کی بہبود کے معیار پر عمل کرتے ہوں۔ لیکن یاد رکھیں، پاکستان میں ایسے سرٹیفائیڈ نامیاتی فارمز بہت کم ہیں، اور 'حلال' کا لیبل ہمیشہ اخلاقی ذبح کی ضمانت نہیں دیتا۔

گوشت خریدنے سے پہلے جاننے کے لیے سرخ جھنڈے

  • سلاٹر ہاؤس کا لائسنس یا فوڈ سیفٹی سرٹیفکیٹ نہ ہونا
  • جانوروں کو اسٹور روم میں زندہ بند رکھنا
  • ذبح کے دوران جانوروں کی چیخیں اور مزاحمت سننا
  • گوشت پر خون کے دھبے یا گندگی نظر آنا
  • مزدوروں کے پاس صفائی کا سامان نہ ہونا
  • جانوروں کو بے ہوش کیے بغیر ذبح کرنے کا دعویٰ

پودوں پر مبنی متبادل: ایک پائیدار حل

پاکستان میں پودوں پر مبنی گوشت کے متبادل ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، لیکن کچھ مقامی برانڈز جیسے 'نوو میک' اور 'پلانٹ بیسڈ پاکستان' نے دالوں اور سویا سے بنے کباب اور شامی نمکین متعارف کرائے ہیں۔ یہ نہ صرف جانوروں کے ظلم کو کم کرتے ہیں، بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

مزید برآں، پودوں پر مبنی غذا صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی 2021 کی ایک تحقیق کے مطابق، جو لوگ سرخ گوشت کا استعمال کم کرکے پودوں پر مبنی پروٹین لیتے ہیں، ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ 14 فیصد کم ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے بڑھتے ہوئے دل کے مریضوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں گوشت کی کھپت میں اضافہ بمقابلہ پودوں پر مبنی غذا (2018-2026)

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا پاکستان میں تمام سلاٹر ہاؤسز غیر قانونی ہیں؟

نہیں، تمام سلاٹر ہاؤسز غیر قانونی نہیں ہیں، لیکن اکثریت غیر منظم ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق، 2024 میں صوبے میں 40 فیصد سلاٹر ہاؤسز کے پاس قابل عمل لائسنس تھے، جبکہ باقی 60 فیصد بغیر لائسنس کے کام کر رہے تھے۔ یہ غیر لائسنس یافتہ سلاٹر ہاؤسز ہیں جہاں جانوروں پر ظلم کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔

کیا حلال ذبح کے دوران جانوروں کو بے ہوش کرنا جائز ہے؟

اسلامی اسکالرز میں اس پر اختلاف ہے، لیکن عالمی اسلامی فقہ اکیڈمی نے 2017 میں یہ فتویٰ دیا کہ ذبح سے پہلے جانوروں کو بے ہوش کرنا جائز ہے، بشرطیکہ موت کی وجہ ذبح ہو، نہ کہ بے ہوشی۔ تاہم، پاکستان میں اس پر عمل نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے جانوروں کو شدید تکلیف ہوتی ہے۔

کیا پاکستان میں پودوں پر مبنی گوشت سستا ہے؟

فی الحال، پاکستان میں پودوں پر مبنی گوشت روایتی گوشت سے زیادہ مہنگا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک کلو چکن کی قیمت تقریباً 500 روپے ہے، جبکہ پلانٹ بیسڈ چکن کے ایک کلو کی قیمت 800 سے 1000 روپے تک ہو سکتی ہے۔ تاہم، دالیں اور پھلیاں، جیسے چنے اور مونگ، سستے اور پروٹین سے بھرپور ہیں، اور ان سے گوشت کے ذائقے کے قریب پکوان بنائے جا سکتے ہیں۔

کیا فیکٹری فارمنگ ماحول کے لیے نقصان دہ ہے؟

جی ہاں، فیکٹری فارمنگ ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ یہ وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی، پانی کی آلودگی، اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔ عالمی سطح پر، مویشیوں کی صنعت سالانہ تقریباً 7.1 گیگاٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہے، جو کہ عالمی اخراج کا 14.5 فیصد ہے۔

کیا حکومت جانوروں کی بہبود کے لیے کوئی اقدام کر رہی ہے؟

پاکستان کی حکومت نے حالیہ برسوں میں کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسے پنجاب اینیمل ویلفیئر ایکٹ کا نفاذ، لیکن اس پر عمل درآمد بہت کمزور ہے۔ 2024 میں، پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سلاٹر ہاؤسز کے معائنے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی، لیکن اس کے پاس وسائل اور اختیارات کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ، جانوروں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں جیسے 'پاکستان ہیومن سوسائٹی' اور 'WWF پاکستان' بھی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

کلیدی نکات

کلیدی نکات

  • پاکستان میں 90 فیصد سلاٹر ہاؤسز جانوروں کو بے ہوش نہیں کرتے
  • جانوروں پر ظلم کے خلاف قانون موجود ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا
  • پودوں پر مبنی غذا جانوروں، ماحول اور صحت کے لیے بہترین ہے
  • صارفین اپنے انتخاب سے صنعت کو تبدیل کر سکتے ہیں
  • مقامی پلانٹ بیسڈ برانڈز جیسے نوو میک دستیاب ہیں

متعلقہ مطالعہ

متعلقہ مطالعہپاکستان سلاٹر ہاؤسز, فیکٹری فارمنگ, جانوروں پر ظلم

by topic