فیکٹ چیک: 'ہمیں بی 12 کے لیے گوشت کی ضرورت ہے' - کیا یہ حقیقت ہے؟
کیا B12 کے لیے گوشت کا استعمال ضروری ہے؟ یہ آرٹیکل اس عام دعوے کی تحقیق کرتا ہے کہ انسانی جسم کو وٹامن B12 کے لیے گوشت کی ضرورت ہے۔

شارٹ آنسر: نہیں، انسانی جسم کو وٹامن بی 12 حاصل کرنے کے لیے گوشت کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ گوشت بی 12 کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے، یہ پودوں پر مبنی غذا کھانے والوں کے لیے بہت سے پودوں پر مبنی فورٹیفائیڈ کھانوں اور غذائی سپلیمنٹس کےC ذریعے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے، جو صحت کے بہترین منافع کو یقینی بناتے ہیں اور جانوروں کے استحصال سے بچتے ہیں۔
دعویٰ: 'ہمیں B12 کے لیے گوشت کھا نا ضروری ہے'
یہ دعویٰ کہ انسانی جسم کے لیے وٹامن B12 کے حصول کی خاطر گوشت کھانا بالکل ضروری ہے، سبزی خور اور ویگن غذاؤں کے حوالے سے سب سے زیادہ عام غلط فہمیوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے لوگ باقاعدگی سے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر آپ گوشت نہیں کھاتے تو آپ کو B12 کی کمی ہو جائے گی، جس سے شدید صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ اکثر پودوں پر مبنی طرز زندگی اپنانے پر غور کرنے والے افراد میں خوف اور ہچکچاہٹ پیدا کرتا ہے۔
B12 کیا ہے؟
یہ دعویٰ کہاں سے آتا ہے؟
یہ دعویٰ بنیادی طور پر اس حقیقت سے پیدا ہوتا ہے کہ وٹامن B12 قدرتی طور پر پودوں سے نہیں آتا۔ یہ زیادہ تر جانوروں کی مصنوعات جیسے گوشت، انڈے اور دودھ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر، جب انسان کی خوراک میں جانوروں کی مصنوعات شامل تھیں، تو B12 کی کمی ایک بڑا مسئلہ نہیں تھا، کم از کم صنعتی ممالک میں نہیں۔ اس نے گوشت اور B12 کے مابین گہرے تعلق کی غلط فہمی کو مضبوط کیا ہے۔
صنعتی زراعت اور جانوروں کی صنعت نے بھی اس غلط فہمی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ یہ ان کے کاروباری ماڈل کی حمایت کرتا ہے۔ گوشت، دودھ اور انڈے کی ایسوسی ایشنز اکثر اپنی مصنوعات کو ضروری غذائی اجزاء، بشمول B12، کے واحد یا بہترین ذرائع کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
““زیادہ تر افراد یہ نہیں جانتے کہ صنعتی طور پر پالے گئے جانوروں کو دراصل ان کی خوراک میں B12 سپلیمنٹس کھلائے جاتے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ ہمارے پلیٹوں میں آئیں۔ لہذا، 'قدرتی' B12 کا تصور خود ہی ایک مبہم تصور ہے۔””
حقیقی شواہد کیا کہتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ وٹامن B12 بیکٹیریا کے ذریعے تیار ہوتا ہے، نہ کہ براہ راست جانوروں کے ذریعے۔ یہ بیکٹیریا مٹی میں، پانی میں اور جانوروں کے گٹوں میں پائے جاتے ہیں۔ جدید حفظان صحت کے طریقوں اور صنعتی فصلوں کی کاشت نے مٹی میں موجود B12 پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی سطح کو کم کر دیا ہے، جس سے نہ صرف انسانوں بلکہ بہت سے جانوروں کے لیے بھی اسے حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ان ممالک میں جہاں پودوں پر مبنی غذا عام ہے، جیسے کہ پاکستان اور ہندوستان کے کچھ حصوں میں، B12 کی کمی ایک تشویش کا باعث تھی جب تک کہ فورٹیفائیڈ غذائیں اور سپلیمنٹس عام نہیں ہوئے تھے۔ اب، صحت عامہ کے ماہرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پودوں پر مبنی غذا کھانے والے افراد کے لیے B12 حاصل کرنے کے کئی مؤثر طریقے موجود ہیں۔
پودوں پر مبنی بی 12 کے ذرائع
- فورٹیفائیڈ پودوں کے دودھ (جیسے سویا، بادام، چاول کا دودھ)
- فورٹیفائیڈ سیریلز اور ناشتے کے اناج
- نیوٹریشنل یسٹ (غذائی خمیر)
- کچھ مارجرین اور گوشت کے متبادل
- وٹامن بی 12 سپلیمنٹس (خاص طور پر ویگن اور سبزی خور افراد کے لیے تجویز کردہ)
پودوں پر مبنی B12 سپلیمنٹس کی کھپت میں اضافہ (پاکستان)
کیا سب کو B12 سپلیمنٹس لینے چاہیئں؟
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور میں کی گئی ایک تحقیق (2024) سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 40% پاکستانیوں میں وٹامن بی 12 کی کمی ہے، چاہے وہ سبزی خور ہوں یا گوشت خور۔ یہ اعداد و شمار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ B12 کی کمی صرف گوشت سے پرہیز کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ممکنہ طور پر ناقص غذائی عادات، جذب ہونے کے مسائل، یا مٹی میں موجود بیکٹیریا کی کمی کی وجہ سے گلوبل مسئلہ ہے۔
بہت سے غذائیت کے ماہرین اب تمام بالغ افراد کو، خاص طور پر 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو، regardless of diet، B12 سپلیمنٹس لینے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ عمر کے ساتھ B12 جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
اس غلط فہمی سے کون فائدہ اٹھاتا ہے؟
یہ غلط فہمی بنیادی طور پر صنعتوں کو فائدہ پہنچاتی ہے جن کا انحصار جانوروں کی مصنوعات کی فروخت پر ہے۔ میٹ انڈسٹری، ڈیری انڈسٹری، اور انڈوں کی پیداوار کمپنیاں ان دعووں کو اپنی مارکیٹنگ کے ایک ہنگامی نقطہ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ وہ صارفین کو اس بات پر قائل کرتی ہیں کہ ان کی مصنوعات صحت کے لیے ناگزیر ہیں، تاکہ ان کی پیداوار میں کمی نہ آسکے۔
اس دعوے کو میڈیا اور بعض غذائیت کے ماہرین بھی پھیلاتے ہیں جو پرانے یا غلط معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ گوشت کی صنعت پاکستان میں، جیسا کہ ملک میں گوشت کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے، اس دعوے کو برقرار رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس کے بجائے کیا کہیں؟
اس غلط دعوے کو ختم کرنے کے لیے، ہمیں درست اور موجودہ سائنسی معلومات فراہم کرنی چاہیئے۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ B12 قدرتی طور پر پودوں میں نہیں پایا جاتا، لیکن یہ پودوں پر مبنی غذا کے ذریعے آسانی سے اور مؤثر طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
| دعویٰ | سائنسی ثبوت | اثرات |
|---|---|---|
| بی 12 صرف گوشت سے حاصل ہوتا ہے۔ | بی 12 بیکٹیریا کے ذریعے پیدا ہوتا ہے اور جانوروں کی مصنوعات میں جمع ہوتا ہے، فورٹیفائڈ پودوں کے کھانوں اور سپلیمنٹس میں بھی آسانی سے دستیاب ہے۔ | ویگن یا سبزی خور افراد صحت مند طریقوں سے بی 12 حاصل کر سکتے ہیں۔ |
| ویگن افراد ہمیشہ بی 12 کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ | صحیح منصوبہ بندی اور سپلیمنٹیشن کے ساتھ، ویگن افراد B12 کی کمی کے بغیر صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ | یہ ایک عام غلط فہمی ہے۔ |
| صرف گوشت خوروں کو بی 12 کی کمی نہیں ہوتی۔ | B12 کی کمی غیر ویگن آبادی میں بھی عام ہے، خاص طور پر بزرگ افراد میں، جذب کے مسائل کی وجہ سے۔ | B12 کی کمی کا تعلق صرف غذا سے نہیں ہوتا۔ |
کثرت سے پوچھے گئے سوالات (FAQ)
کیا وٹامن B12 صرف جانوروں کی مصنوعات میں پایا جاتا ہے؟
نہیں، وٹامن B12 قدرتی طور پر بیکٹیریا کے ذریعے پیدا ہوتا ہے جو مٹی اور جانوروں کے گٹ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ جانوروں کی مصنوعات جیسے گوشت، دودھ اور انڈے میں جمع ہوتا ہے، لیکن یہ فورٹیفائیڈ پودوں پر مبنی کھانوں (جیسے پلانٹ ملک، سیریئلز، نیوٹریشنل یسٹ) اور سپلیمنٹس کے ذریعے بھی دستیاب ہے۔
پودوں پر مبنی غذا پر B12 کیسے حاصل کیا جائے؟
پودوں پر مبنی غذا پر B12 حاصل کرنے کے لیے، آپ کو فورٹیفائیڈ پودوں پر مبنی کھانوں کو اپنی غذا میں شامل کرنا چاہیئے، جیسے کہ فورٹیفائیڈ سویا دودھ، چاول کا دودھ، سیریئلز، اور نیوٹریشنل یسٹ۔ اکثر، ویگن افراد کو B12 سپلیمنٹس لینے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ کافی مقدار کو یقینی بنایا جا سکے۔
B12 کی کمی کی علامات کیا ہیں؟
B12 کی کمی کی علامات میں تھکاوٹ، کمزوری، قبض، بھوک میں کمی، وزن میں کمی، یادداشت کے مسائل، ڈپریشن، منہ اور زبان میں درد، اور اعصابی مسائل (جیسے ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ یا بے حسی) شامل ہیں۔ شدید کمی خون کی کمی اور اعصابی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
کیا ہر ویگن کو B12 سپلیمنٹس لینے کی ضرورت ہے؟
ہاں، صحت مند پودوں پر مبنی غذا کو برقرار رکھنے والے تمام ویگنوں یا دائمی سبزی خوروں کو B12 سپلیمنٹ لینا چاہیئے۔ چونکہ B12 قدرتی طور پر پودوں میں نہیں پایا جاتا، اس لیے فورٹیفائیڈ غذاؤں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے سپلیمنٹیشن زیادہ قابل بھروسہ طریقہ ہے۔
پاکستان میں B12 سپلیمنٹس کہاں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں؟
پاکستان میں، B12 سپلیمنٹس ملک بھر کی زیادہ تر فارمیسیوں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ آپ انہیں بڑے سپر مارکیٹس کے ہیلتھ اینڈ ویلنس سیکشنز یا آن لائن health stores جیسے Daraz.pk سے بھی خرید سکتے ہیں۔
کلیدی نکات
- B12 بیکٹیریا پیدا کرتے ہیں، جانور نہیں، اور یہ پودوں پر مبنی غذاؤں میں دستیاب ہے۔
- فورٹیفائیڈ پودوں کے دودھ، سیریئلز، اور نیوٹریشنل یسٹ B12 کے اچھے ذرائع ہیں۔
- صنعتی گوشت کی صنعت B12 کے حوالے سے غلط معلومات پھیلاتی ہے۔
- ویگن افراد کو B12 سپلیمنٹس استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
- سب کے لیے، خاص طور پر بزرگوں کے لیے B12 سپلیمنٹیشن کی سفارش کی جاتی ہے۔
حوالہ جات
- فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO). (2023). 'The State of Food Security and Nutrition in the World'.
- یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور. (2024). 'Vitamin B12 Deficiency in Pakistani Population: A Cross-Sectional Study'.
- ویگن سوسائٹی. (بلا تاریخ). 'Vitamin B12: The essential guide'.
- گڈ فوڈ انسٹی ٹیوٹ. (2023). 'The Future of Protein: A Guide to Plant-Based Meat'.
- انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن. (1998). 'Dietary Reference Intakes for Thiamin, Riboflavin, Niacin, Vitamin B6, Folate, Vitamin B12, Pantothenic Acid, Biotin, and Choline'.