مرغی کی لنگڑا پن اور دل کی ناکامی: 2026 میں عالمی پابندیوں کا جائزہ
برائلر مرغیوں کی تیز رفتار افزائش کے نتیجے میں لنگڑا پن اور دل کی ناکامی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جس کے خلاف دنیا بھر میں نئے قوانین اور پابندیاں سامنے آ رہی ہیں۔

مختصر جواب: برائلر مرغیوں کی تیز رفتار افزائش کی وجہ سے لنگڑا پن اور دل کی ناکامی جیسے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں، جن کے خلاف 2026 تک یورپی یونین، برطانیہ، اور کچھ امریکی ریاستوں نے سخت قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ یہ قوانین افزائش کی رفتار کو محدود کرتے ہیں اور مرغیوں کو زیادہ جگہ دینے کا حکم دیتے ہیں۔ پاکستان میں ابھی کوئی قانون نہیں، لیکن صارفین کی بیداری اور مقامی تنظیموں کی کوششوں سے تبدیلی آ رہی ہے۔
برائلر مرغیوں میں لنگڑا پن اور دل کی ناکامی کیوں عام ہے؟
برائلر مرغیاں خاص طور پر اس لیے پالی جاتی ہیں کہ وہ صرف 35 سے 42 دنوں میں ذبح کے قابل وزن تک پہنچ جائیں۔ اس تیز رفتار نشوونما کا مطلب ہے کہ ان کا جسم اپنے کنکال اور اعضاء سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، ان کی ٹانگیں کمزور ہو جاتی ہیں، جوڑوں میں درد ہوتا ہے، اور لنگڑا پن بہت عام ہے۔ اسی طرح، ان کا دل پورے جسم کو خون فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتا، جس سے دل کی ناکامی اور اچانک موت واقع ہوتی ہے۔
“ہم نے دیکھا ہے کہ جدید برائلر مرغیوں میں سے 30 فیصد تک کو چلنے میں دشواری ہوتی ہے، اور یہ جانوروں کی بہبود کا ایک بہت بڑا بحران ہے۔”
یورپی یونین میں برائلر افزائش پر پابندیاں: 2026 کا جائزہ
یورپی یونین نے 2026 تک برائلر مرغیوں کی افزائش کے لیے نئے معیارات نافذ کر دیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ افزائش کی شرح کو محدود کر دیا گیا ہے، یعنی مرغیوں کو اتنی تیزی سے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اس کے علاوہ، فی مربع میٹر میں مرغیوں کی تعداد کو کم کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں زیادہ جگہ مل سکے۔ یہ قوانین یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی (EFSA) کی 2023 کی سفارشات پر مبنی ہیں، جس نے واضح کیا کہ موجودہ افزائش مرغیوں کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
یورپی یونین کے نئے ضوابط کیا کہتے ہیں؟
یورپی یونین کے نئے ضوابط کے مطابق، برائلر مرغیوں کی افزائش کی شرح 50 گرام فی دن سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ، فارمرز کو مرغیوں کو قدرتی روشنی اور کھڑکیاں فراہم کرنا لازمی ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے اور فارم بند کرنے کی سزائیں ہیں۔ یہ ضوابط 2026 کے اوائل سے نافذ ہو چکے ہیں اور اب بڑے پیمانے پر مرغیوں کے فارمز کو اپنی افزائش کے طریقے بدلنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
| علاقہ | صورتحال | قانون/پالیسی | نفاذ کی تاریخ |
|---|---|---|---|
| یورپی یونین | نافذ | افزائش کی شرح کی حد، کم کثافت | جنوری 2026 |
| برطانیہ | نافذ | بہبود کوڈ میں تبدیلی، افزائش کی حد | اپریل 2025 |
| امریکہ (کیلیفورنیا) | مجوزہ | برائلر فلاح و بہبود ایکٹ | 2027 (متوقع) |
| پاکستان | زیر غور | کوئی قانون نہیں، صارفین کا دباؤ | نامعلوم |
| چین | مجوزہ | بہبود کے رضاکارانہ معیارات | 2026 کے آخر تک |
برطانیہ میں برائلر لنگڑا پن پر قوانین: کیا تبدیلی آئی ہے؟
برطانیہ نے 2024 میں اپنے جانوروں کی بہبود کوڈ میں تبدیلی کی، جس میں برائلر مرغیوں کی افزائش کی شرح کو محدود کرنے کے لیے نئے قوانین شامل کیے گئے۔ اس کا مقصد لنگڑا پن اور دل کی بیماریوں کو کم کرنا ہے۔ تاہم، جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قوانین ابھی بھی کافی نہیں ہیں، کیونکہ بہت سے فارمز پرانے طریقوں پر عمل کر رہے ہیں۔ کمپین فار گوئٹ فارمنگ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں 70 فیصد برائلر فارمز اب بھی تیز رفتار افزائش استعمال کر رہے ہیں۔
امریکہ میں برائلر فلاح و بہبود کے قوانین: ریاستی سطح پر پیش رفت
امریکہ میں وفاقی سطح پر برائلر مرغیوں کے لیے کوئی خاص قانون نہیں ہے، لیکن کچھ ریاستوں نے اپنے اقدامات کیے ہیں۔ کیلیفورنیا میں 2024 میں ایک بل پیش کیا گیا جس میں برائلر مرغیوں کی افزائش کی شرح کو محدود کرنے اور انہیں زیادہ جگہ دینے کی تجویز دی گئی۔ یہ بل ابھی زیر غور ہے، لیکن جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں اسے 2027 تک قانون بنانے کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔ دیگر ریاستیں جیسے میساچوسٹس اور واشنگٹن بھی اسی طرح کے قوانین پر غور کر رہی ہیں۔
برائلر مرغیوں میں لنگڑا پن کی شرح (2015-2025)
ایشیا اور پاکستان میں برائلر افزائش کے خلاف تحریک
ایشیا میں، جہاں چکن کا گوشت سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، برائلر افزائش کی رفتار پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔ پاکستان میں، مرغیوں کے فارمز پر تیز رفتار افزائش عام ہے، اور لنگڑا پن ایک عام مسئلہ ہے۔ تاہم، مقامی تنظیمیں جیسے کہ پاکستان ویگن سوسائٹی اور جانوروں کے حقوق کی دیگر این جی اوز اس بارے میں آگاہی پھیلا رہی ہیں۔ 2025 میں کراچی میں ایک مظاہرہ ہوا جس میں صارفین نے برائلر مرغیوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔
“پاکستان میں صارفین کو یہ حق ہے کہ وہ جانیں کہ ان کا کھانا کس طرح تیار ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت برائلر افزائش پر پابندی لگائے تاکہ مرغیوں کو تکلیف نہ ہو۔”
کارپوریٹ احتساب: کیا گوشت کمپنیاں برائلر بہبود کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں؟
دنیا کی بڑی گوشت کمپنیاں، جیسے کہ برازیل کی JBS اور امریکہ کی Tyson Foods، نے اپنے برائلر سپلائرز کے لیے بہبود کے معیارات اپنانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، ان وعدوں پر عمل درآمد سست ہے۔ 2025 میں، Mercy for Animals کی ایک تحقیقات نے انکشاف کیا کہ JBS کے کئی فارمز میں مرغیاں لنگڑی اور بیمار پائی گئیں، جبکہ کمپنی نے بہبود کے معیارات پر عمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس نے صارفین کے دباؤ کو بڑھایا ہے اور کچھ کمپنیوں کو اپنے طریقے بدلنے پر مجبور کیا ہے۔
برائلر فلاح و بہبود کے لیے اگلے اقدامات: 2026 کا روڈ میپ
اہم سنگ میل
- یورپی یونین میں 2026 کے آخر تک تمام برائلر فارمز پر نئے معیارات کا مکمل نفاذ۔
- کیلیفورنیا میں برائلر فلاح و بہبود ایکٹ کی منظوری کے لیے ریفرنڈم مہم۔
- پاکستان میں قومی اسمبلی میں برائلر افزائش پر پابندی کا بل پیش کرنے کی کوشش۔
- ایشیا میں بڑے گوشت برانڈز کے لیے بہبود کے عوامی وعدوں کی نگرانی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا برائلر مرغیوں میں لنگڑا پن عام ہے؟
جی ہاں، یہ بہت عام ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کی 2023 کی تحقیق کے مطابق، تجارتی فارموں میں پالی جانے والی 60 فیصد برائلر مرغیوں میں لنگڑا پن کی علامات پائی جاتی ہیں۔ یہ بنیادی طور پر تیز رفتار افزائش کی وجہ سے ہوتا ہے، جس میں مرغیوں کی ٹانگیں ان کے بڑھتے ہوئے جسمانی وزن کو سہارا نہیں دے پاتیں۔

برائلر مرغیوں میں دل کی ناکامی کیوں ہوتی ہے؟
برائلر مرغیوں کا دل ان کے جسمانی وزن کے مقابلے میں چھوٹا رہ جاتا ہے، کیونکہ افزائش کی شرح بہت تیز ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دل پورے جسم کو خون فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوتا، جس سے دل کی ناکامی اور اچانک موت واقع ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ 2024 کی یورپی کمیشن کی رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔
کیا پاکستان میں برائلر مرغیوں پر کوئی قانون ہے؟
نہیں، پاکستان میں برائلر افزائش کی رفتار یا لنگڑا پن کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ تاہم، جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں اور کچھ سیاست دان اس پر غور کر رہے ہیں۔ 2025 میں، پنجاب اسمبلی میں ایک رکن نے برائلر فارمنگ کے حالات پر بحث کی تجویز دی، لیکن ابھی تک کوئی قانون منظور نہیں ہوا۔

برائلر افزائش پر پابندی کے کیا فوائد ہیں؟
پابندی سے مرغیوں کی تکلیف کم ہوگی، لنگڑا پن اور دل کی بیماریوں میں کمی آئے گی، اور ان کی زندگی کا معیار بہتر ہوگا۔ اس کے علاوہ، اس سے اینٹی بائیوٹکس پر انحصار کم ہوگا، جو عوامی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ یورپی یونین کے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے قوانین ممکن ہیں۔
نتیجہ اور عملی اقدامات
کلیدی نکات
- ✓برائلر مرغیوں میں لنگڑا پن اور دل کی ناکامی تیز رفتار افزائش کی وجہ سے ہے۔
- ✓یورپی یونین اور برطانیہ نے 2026 تک پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
- ✓امریکہ میں کچھ ریاستیں مجوزہ قوانین پر غور کر رہی ہیں۔
- ✓پاکستان میں ابھی کوئی قانون نہیں، لیکن صارفین کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
- ✓آپ گوشت کم کھا کر اور تنظیموں کی حمایت کر کے تبدیلی لا سکتے ہیں۔
متعلقہ موضوعات