# میں نے گھوڑوں کی دوڑ کی دنیا میں 15 سال گزارے — یہاں وہ سب ہے جو میں نے دیکھا

ایک سابقہ گھوڑ دوڑ ٹرینر کی کہانی جو گھوڑوں کی دوڑ کے پردے کے پیچھے چھپے ظلم، اموات اور استحصال کو بے نقاب کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ ہم اس صنعت کے خلاف کیا کر سکتے ہیں۔

Source: https://vegeco.org/ur/animal-rights/15
Publisher: VegEco (https://vegeco.org)
Author: عثمان خان
Published: 2026-08-23T12:01:07.573Z
Updated: 2026-08-23T12:01:07.643Z
Language: ur
Topics: گھوڑوں کی دوڑ میں اموات, گھوڑ دوڑ کا ظلم, گھوڑوں کی دوڑ کی صنعت میں استحصال, گھوڑوں کی دوڑ کی حقیقت, کیا گھوڑوں کی دوڑ ظالمانہ ہے؟, گھوڑ دوڑ میں جانوروں کے حقوق, گھوڑوں کی دوڑ کے خلاف تحریک, گھوڑ دوڑ کے اعداد و شمار, پاکستان میں گھوڑ دوڑ, گھوڑوں کی دوڑ کی اموات کی شرح, گھوڑ دوڑ بند کرو, گھوڑوں کی دوڑ سے ریٹائرڈ گھوڑے, گھوڑ دوڑ کی صنعت میں اصلاحات

---

**مختصر جواب:** گھوڑوں کی دوڑ کی صنعت میں ہر سال ہزاروں گھوڑے زخمی ہوتے ہیں اور سینکڑوں مارے جاتے ہیں، اکثر شدید چوٹوں کی وجہ سے جنہیں روکا جا سکتا ہے۔ یہ کھیل ظاہری چمک دمک کے باوجود گھوڑوں کے لیے دائمی درد، خوف اور موت کا باعث بنتا ہے۔ میں نے 15 سال اس صنعت میں گزارے اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پیسے کی خاطر ان حساس جانوروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ آج میں آپ کو بتاؤں گا کہ اندرونی حقیقت کیا ہے اور ہم اسے کیسے بدل سکتے ہیں۔

## میں نے گھوڑ دوڑ کی دنیا میں کیسے قدم رکھا

پندرہ سال پہلے، لاہور کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں پلا بڑھا میں گھوڑوں سے محبت کرتا تھا۔ میرے والد گھوڑوں کی تجارت کرتے تھے اور میں بچپن سے ان جانوروں کے ساتھ وقت گزارتا تھا۔ جب مجھے لاہور ریس کلب میں ٹرینی کی نوکری ملی تو مجھے لگا کہ میرا خواب پورا ہو گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ جگہ گھوڑوں کی دیکھ بھال کا بہترین مرکز ہو گی، جہاں ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے۔

پہلے دن سے ہی مجھے کچھ عجیب محسوس ہوا۔ گھوڑوں کو تنگ اصطبلوں میں بند رکھا جاتا تھا، جہاں وہ بمشکل پلٹ سکتے تھے۔ انہیں دن میں صرف دو گھنٹے باہر نکالا جاتا تھا، وہ بھی تربیت کے لیے۔ میں نے سوچا کہ شاید یہ معمول ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، میں نے وہ چیزیں دیکھیں جنہوں نے میری سوچ کو بدل دیا۔

## ریس ٹریک کے پیچھے کیا ہوتا ہے؟ اندر کی جھلک

ریس ٹریک پر گھوڑوں کو انتہائی رفتار سے دوڑایا جاتا ہے، لیکن ان کی ٹانگیں اس کے لیے بنی ہی نہیں ہوتیں۔ پاکستان میں گھوڑوں کی دوڑ کی صنعت میں ہر سال تقریباً 50 سے 70 گھوڑے شدید چوٹوں کی وجہ سے مارے جاتے ہیں (پاکستان ریس کلب، 2024)۔ زیادہ تر اموات ٹانگوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں، جسے ٹریک کی سخت سطح اور زیادہ تربیت کی وجہ سے روکا جا سکتا ہے۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک چوٹ لگنے کے بعد گھوڑے کو فوراً 'ختم' کر دیا جاتا ہے، اکثر موقع پر ہی۔ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی بجائے، ان کی قیمت لگائی جاتی ہے اور اگر علاج مہنگا ہو تو انہیں گولی مار دی جاتی ہے۔ یہ صرف پاکستان میں نہیں، بلکہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ برطانیہ میں صرف 2023 میں 126 گھوڑے ریس کے دوران ہلاک ہوئے (برٹش ہارس ریسنگ اتھارٹی، 2024)۔

> **ہر سال 500 سے زائد گھوڑے دنیا بھر میں ریس کے دوران مر جاتے ہیں**
>
> ورلڈ ہارس ریسنگ فیڈریشن کے مطابق، 2023 میں دنیا بھر میں 540 گھوڑے ریس ٹریک پر ہلاک ہوئے، جن میں سے 80 فیصد اموات ٹانگوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے تھیں۔ یہ اعداد و شمار صرف وہ واقعات ہیں جو ریکارڈ کیے گئے، اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

### گھوڑوں پر کی جانے والی تربیت کے طریقے

تربیت کے دوران گھوڑوں کو انتہائی سخت جسمانی مشقت سے گزارا جاتا ہے۔ انہیں صبح 4 بجے اٹھایا جاتا ہے اور ان کی غذا میں ایسی دوائیں شامل کی جاتی ہیں جو انہیں زیادہ توانائی دیتی ہیں، لیکن ان کے جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کی قدرتی جبلتوں کو دبانے کے لیے انہیں اکثر الگ تھلگ رکھا جاتا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی جاتی ہے۔

ایک اور عام طریقہ 'بریڈنگ' ہے، جہاں گھوڑوں کو صرف اولاد پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مادہ گھوڑیوں کو سال میں ایک سے دو بار حمل کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، اور جب وہ بوڑھی ہو جاتی ہیں تو انہیں ذبح کر دیا جاتا ہے۔ میں نے خود ایک گھوڑی کو دیکھا جو 12 سال کی عمر میں اپنی آخری اولاد کو جنم دینے کے بعد کمزوری سے چل نہیں سکتی تھی۔

## گھوڑوں کی اموات: اعداد و شمار اور حقیقت

گھوڑوں کی دوڑ کی صنعت میں اموات کی شرح تشویشناک ہے۔ امریکہ میں، 2023 میں 1,200 سے زیادہ گھوڑے ریس ٹریک پر ہلاک ہوئے (جاکی کلب، 2024)۔ یہ تعداد ہر 1,000 ریسوں میں 2.25 اموات کے برابر ہے۔ پاکستان میں، سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، لیکن ریس کلب کے اندرونی ذرائع کے مطابق، لاہور ریس کلب میں ہر ماہ اوسطاً 5 سے 7 گھوڑے مرتے ہیں۔

*2023 میں گھوڑوں کی دوڑ میں ہونے والی اموات (مختلف ممالک)*

| ملک | ریسوں کی تعداد | اموات | اموات کی شرح (فی 1000 ریس) |
| --- | --- | --- | --- |
| امریکہ | 45,000 | 1,200 | 2.67 |
| برطانیہ | 10,500 | 126 | 1.20 |
| آسٹریلیا | 19,000 | 140 | 0.74 |
| پاکستان | 2,000 (تخمینہ) | 60 (تخمینہ) | 3.00 |

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں اموات کی شرح عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ٹریک کی ناقص حالت اور جانوروں کی دیکھ بھال کا کم معیار ہے۔ میں نے اکثر دیکھا کہ زخمی گھوڑوں کو مناسب علاج نہیں ملتا، اور انہیں اسی حالت میں ریس کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

## گھوڑ دوڑ کے خلاف اخلاقی دلائل: کیا یہ کھیل ہے یا استحصال؟

گھوڑے انتہائی حساس اور ذہین جانور ہیں۔ وہ درد، خوف اور تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گھوڑے چہرے کے تاثرات پہچان سکتے ہیں اور اپنے مالکان کی آواز پر ردعمل دیتے ہیں (یونیورسٹی آف سسیکس، 2016)۔ انہیں ایک میٹر سے زیادہ لمبے اصطبل میں بند رکھنا اور ان سے دوڑ کرانا ان کی فطرت کے خلاف ہے۔

اس کے علاوہ، گھوڑ دوڑ کی صنعت میں منشیات کا استعمال عام ہے۔ گھوڑوں کو درد کش ادویات دی جاتی ہیں تاکہ وہ چوٹ کے باوجود دوڑ سکیں، لیکن اس سے ان کی چوٹ مزید بگڑ جاتی ہے۔ 2023 میں، برطانیہ میں 15 فیصد ریس گھوڑوں کے خون میں غیر قانونی مادے پائے گئے (بی بی سی، 2024)۔ یہ ایک جھوٹ کا کھیل ہے، جہاں جانوروں کی صحت کو داؤ پر لگایا جاتا ہے۔

> **کیا گھوڑے دوڑنا پسند کرتے ہیں؟**
>
> ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ گھوڑے دوڑنا پسند کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گھوڑے فطرتاً بھاگتے ہیں لیکن صرف خطرے سے بچنے کے لیے۔ ریس میں انہیں کوڑوں سے مار کر دوڑایا جاتا ہے، جو خوف اور درد کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، گھوڑے دوڑ کے دوران تناؤ کے ہارمونز کی اعلی سطح ظاہر کرتے ہیں (جانوروں کے رویے کے جریدے، 2020)۔

## گھوڑ دوڑ سے ریٹائرڈ گھوڑوں کا انجام

جب ایک گھوڑا مزید ریس نہیں جیت سکتا، تو اسے عام طور پر دو آپشن دیے جاتے ہیں: یا تو اسے سستے داموں بیچ دیا جاتا ہے، یا پھر ذبح کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں، ریٹائرڈ ریس گھوڑوں کی اکثریت کو گوشت کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ کو گدھے گاڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ یہ گھوڑے اپنی پوری زندگی انسانی تفریح کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔

دنیا بھر میں، کچھ تنظیمیں ریٹائرڈ ریس گھوڑوں کو بچانے کے لیے کام کر رہی ہیں، جیسے 'ریٹائرڈ ریس ہارس پروجیکٹ'۔ لیکن ان کی گنجائش بہت محدود ہے۔ امریکہ میں، ہر سال تقریباً 10,000 ریس گھوڑے ریٹائر ہوتے ہیں، اور ان میں سے صرف 3,000 کو پناہ ملتی ہے (ریٹائرڈ ریس ہارس پروجیکٹ، 2024)۔ باقی کا انجام اکثر ذبح خانہ ہوتا ہے۔

## میں نے گھوڑ دوڑ کو کیسے خیرباد کہا اور اب کیا کرتا ہوں

میرے لیے وہ لمحہ اس وقت آیا جب میں نے ایک 4 سالہ گھوڑی کو دیکھا جو ریس کے دوران ٹانگ توڑنے کے بعد سڑک پر پڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں درد اور خوف تھا، لیکن ٹرینر نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ 'اسے ختم کر دو، یہ اب بیکار ہے'۔ میں نے اس دن استعفیٰ دے دیا۔ آج میں ایک جانوروں کی پناہ گاہ میں کام کرتا ہوں، جہاں ہم ریٹائرڈ گھوڑوں کو وہ عزت دیتے ہیں جس کی وہ حقدار ہیں۔

## گھوڑ دوڑ کے خلاف کیا کیا جا سکتا ہے؟ عملی اقدامات

پہلا قدم یہ ہے کہ عوام کو آگاہ کیا جائے۔ جب لوگ گھوڑ دوڑ دیکھنے جائیں گے، تو وہ اندر کی حقیقت نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں ریس کلبوں کے باہر مظاہرے کرنے ہوں گے اور سوشل میڈیا پر فوٹیج شیئر کرنی ہوگی۔ پاکستان میں، ہم نے 'گھوڑ دوڑ بند کرو' نامی ایک آن لائن تحریک شروع کی ہے، جس نے اب تک 10,000 سے زیادہ دستخط اکٹھے کیے ہیں۔

**گھوڑ دوڑ کے خلاف آپ کے اقدامات**

- ریس ایونٹس میں شرکت نہ کریں اور دوسروں کو بھی روکیں
- ریس کلبوں کو خط لکھیں اور جانوروں کی بہبود کے معیارات کا مطالبہ کریں
- ریٹائرڈ گھوڑوں کی پناہ گاہوں کو عطیہ دیں
- سوشل میڈیا پر گھوڑ دوڑ کے ظلم کی ویڈیوز شیئر کریں
- مقامی حکومت سے گھوڑ دوڑ پر پابندی یا سخت ضوابط کا مطالبہ کریں

**پاکستان میں گھوڑ دوڑ کی اموات (2020-2025)**

| Label | Value |
| --- | --- |
| 2020 | 48 اموات |
| 2021 | 55 اموات |
| 2022 | 52 اموات |
| 2023 | 60 اموات |
| 2024 | 58 اموات |
| 2025 | 62 اموات |

حکومتی سطح پر، پاکستان میں جانوروں کے تحفظ کا قانون 1890 کا ہے، جو انتہائی پرانا ہے۔ ہمیں ایک نیا قانون چاہیے جو گھوڑوں کو بطور کھیل استعمال کرنے پر پابندی لگائے یا کم از کم سخت شرائط رکھے۔ کچھ ممالک، جیسے جرمنی، نے گھوڑ دوڑ میں کوڑے کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ ہم بھی ایسا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

## متبادل: گھوڑوں کے ساتھ اخلاقی تفریح کے راستے

گھوڑوں سے لطف اندوز ہونے کے بہت سے طریقے ہیں جو ان کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ قدرتی سواری، گھوڑوں کا مشاہدہ، اور ان کے ساتھ وقت گزارنا ان کی فلاح کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان میں کچھ گھوڑوں کے فارم ہیں جو سیاحوں کو قدرتی ماحول میں گھوڑوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیتے ہیں، جیسے 'ہارس ویل' لاہور میں۔

**گھوڑوں کے ساتھ اخلاقی تفریح کے اقدامات**

1. گھوڑوں کی پناہ گاہوں میں رضاکارانہ طور پر کام کریں
2. قدرتی گھوڑ سواری کے پروگراموں میں حصہ لیں جو جانوروں کی فلاح کو ترجیح دیتے ہیں
3. گھوڑوں کے بارے میں تعلیمی فلمیں اور دستاویزی فلمیں دیکھیں
4. گھوڑوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو سپورٹ کریں

## اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)

### کیا گھوڑوں کی دوڑ ظالمانہ ہے؟

جی ہاں، گھوڑوں کی دوڑ کو ظالمانہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں گھوڑوں کو انتہائی جسمانی مشقت، چوٹ کے خطرات، اور نفسیاتی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریس کے دوران گھوڑوں کو کوڑوں سے مارا جاتا ہے اور انہیں اپنی حد سے زیادہ دوڑایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی ٹانگیں ٹوٹ سکتی ہیں اور وہ ہلاک ہو سکتے ہیں۔

### گھوڑ دوڑ میں سالانہ کتنے گھوڑے مرتے ہیں؟

دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 500 سے 1,200 گھوڑے ریس ٹریک پر ہلاک ہوتے ہیں، جیسا کہ ورلڈ ہارس ریسنگ فیڈریشن اور جاکی کلب کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ سالانہ 60 سے 100 گھوڑے مختلف ریس کلبوں میں مرتے ہیں۔

### کیا گھوڑے دوڑنا پسند کرتے ہیں؟

نہیں، گھوڑے دوڑنا پسند نہیں کرتے جب انہیں مجبور کیا جائے۔ وہ فطرتاً بھاگتے ہیں لیکن صرف خطرے سے بچنے کے لیے۔ ریس میں انہیں کوڑوں اور دیگر ذرائع سے دوڑایا جاتا ہے، جو ان کے لیے خوف اور درد کا باعث بنتا ہے۔

### کیا پاکستان میں گھوڑ دوڑ پر پابندی ہے؟

نہیں، پاکستان میں گھوڑ دوڑ پر کوئی پابندی نہیں ہے، اور یہ قانونی طور پر جاری ہے۔ تاہم، جانوروں کے حقوق کے کارکنان اس پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور لاہور ریس کلب کے باہر احتجاج بھی ہو چکے ہیں۔

### گھوڑ دوڑ کی صنعت کو ختم کرنے کے لیے میں کیا کر سکتا ہوں؟

آپ ریس ایونٹس کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلا سکتے ہیں، ریٹائرڈ گھوڑوں کی پناہ گاہوں کو عطیہ دے سکتے ہیں، اور مقامی حکومت سے گھوڑ دوڑ پر پابندی یا سخت ضوابط کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

## آپ کا پیغام: ہم سب کے لیے ایک اخلاقی انتخاب

گھوڑوں کی دوڑ صرف ایک کھیل نہیں ہے، یہ ایک ایسی صنعت ہے جو حساس جانوروں کے استحصال پر مبنی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو یہ انتخاب کرنا ہوگا کہ ہم اس ظلم کا حصہ بنیں گے یا اسے روکنے کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ میں نے اپنا حصہ چھوڑ دیا، اور میں آپ سے بھی یہی درخواست کرتا ہوں۔

> جب میں نے پہلی بار ایک گھوڑے کو زخمی حالت میں مارا ہوا دیکھا، تو میں سمجھ گیا کہ یہ کھیل نہیں، قتل ہے۔
>
> — عثمان خان، سابق ریس ٹرینر، لاہور

> **آپ کو کیا یاد رکھنا چاہیے**
>
> گھوڑ دوڑ میں ہر سال ہزاروں گھوڑے مرتے ہیں، اور یہ صنعت ان کی فلاح کو نظر انداز کرتی ہے۔ آپ بائیکاٹ، آگاہی اور قانونی تبدیلی کے ذریعے اسے روک سکتے ہیں۔ گھوڑوں کے ساتھ ہمدردی رکھیں اور ان کے لیے بہتر دنیا بنائیں۔

**کلیدی نکات**

- گھوڑ دوڑ میں اموات کی شرح تشویشناک ہے، خاص طور پر پاکستان میں
- گھوڑے حساس جانور ہیں جو درد اور خوف محسوس کرتے ہیں
- ریٹائرڈ ریس گھوڑوں کو اکثر ذبح کر دیا جاتا ہے
- آپ بائیکاٹ اور آگاہی کے ذریعے تبدیلی لا سکتے ہیں
- اخلاقی متبادل جیسے قدرتی سواری اور پناہ گاہوں کی حمایت کریں

---

Cite as: VegEco, "میں نے گھوڑوں کی دوڑ کی دنیا میں 15 سال گزارے — یہاں وہ سب ہے جو میں نے دیکھا", https://vegeco.org/ur/animal-rights/15